جی ہاں، کویت کا سائبر کرائم قانون (نمبر 63 بابت 2015) سائبر کرائم استغاثہ کے لیے مخصوص مرورِ زمان کی مدتیں مقرر کرتا ہے۔ دفعہ 18 کے تحت، اگر جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا 3 سال تک قید ہو، تو فوجداری مقدمہ جرم کے وقوع کی تاریخ سے 2 سال کے اندر کارروائی نہ ہونے پر ختم ہو جاتا ہے۔ زیادہ سنگین جرائم جن کی سزا 3 سال سے زائد ہو، ان کے لیے تحدیدِ زمان کی مدت جرم کی تاریخ سے 5 سال ہے۔ ان مقررہ مدتوں کے گزر جانے کے بعد کوئی مقدمہ سماعت کے لیے قابلِ قبول نہیں رہتا۔
ان مقدمات کی سماعت کے حوالے سے، دفعہ 17 یہ طے کرتی ہے کہ اس قانون کے تحت تمام سائبر کرائم تحقیقات، استغاثہ اور کارروائیوں پر سرکاری استغاثہ (النيابة العامة) کا خصوصی دائرہ اختیار ہے۔ کوئی دوسرا ادارہ ان جرائم کی آزادانہ تحقیق یا استغاثہ نہیں کر سکتا۔
وہ غیر ملکی جو سائبر کرائم کا شکار ہوئے ہوں — جیسے ہیکنگ، آن لائن دھوکہ دہی، یا شناختی چوری — انہیں چاہیے کہ مرورِ زمان کی مدت گزر جانے سے پہلے جلد از جلد کویت کے سائبر کرائم حکام کو واقعے کی اطلاع دیں۔ اسی طرح، اگر آپ کسی جاری سائبر کرائم سے آگاہ ہوں، تو دفعہ 12 یہ گنجائش دیتی ہے کہ کوئی مجرم اگر جرم کا پتہ چلنے سے پہلے اپنی مرضی سے حکام کو اطلاع دے، تو اسے مکمل یا جزوی طور پر سزا سے استثنیٰ مل سکتا ہے، جو سرّافشاں افراد یا شریکِ جرم کے لیے ایک اہم مراعات ہو سکتی ہے۔
यह सामान्य कानूनी जानकारी है, कानूनी सलाह नहीं। अपनी स्थिति के लिए सलाह हेतु, कुवैत में लाइसेंस प्राप्त वकील से परामर्श करें।