کویت میں نکاح کو قانونی طور پر درست قرار دینے کے لیے پرسنل اسٹیٹس لاء (قانون نمبر 51 بابت 1984) کے تحت بیک وقت کئی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، عقدِ نکاح دلہن کے ولی کی جانب سے ایجاب اور دولہا کی جانب سے قبول — یا ان کے مجاز نمائندوں کے ذریعے — وقوع پذیر ہونا چاہیے (دفعہ 8)۔ ایجاب اور قبول واضح، فوری (کسی مستقبل کی شرط پر معلق نہ ہو)، اور باہم مطابق ہونے چاہئیں — چاہے صراحتاً ہو یا دلالتاً (دفعہ 10)۔
ایجاب اور قبول عموماً کسی بھی زبان میں زبانی طور پر ادا کیے جاتے ہیں، تاہم اگر ایک فریق غائب ہو تو تحریری ذریعہ یا قاصد کے توسط سے بھی جائز ہے۔ اگر کوئی فریق گویائی سے قاصر ہو تو تحریر یا اشارے کی زبان اس کا بدل بن سکتی ہے (دفعہ 9)۔
اہم ترین شرط یہ ہے کہ نکاح کی درستگی کے لیے دو بالغ، عاقل مسلمان مرد گواہوں کا ہونا لازم ہے جو بیک وقت دونوں فریقین کے الفاظ سنیں اور سمجھیں (دفعہ 11)۔ ایک استثناء یہ ہے کہ اگر دولہا مسلمان ہو اور دلہن کتابیہ (مسیحی یا یہودی خاتون) ہو تو اس کے مذہب کے دو غیر مسلم گواہ بھی کافی ہو سکتے ہیں (دفعہ 11ب)۔
غیر ملکی باشندوں کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ کویتی قانون کے تحت بعض نکاح ممنوع ہیں — مثلاً مسلمان عورت کا غیر مسلم مرد سے نکاح جائز نہیں، اور مسلمان مرد صرف اہلِ کتاب میں سے کسی تسلیم شدہ مذہب کی عورت سے نکاح کر سکتا ہے (دفعہ 18)۔ ان قواعد کی خلاف ورزی پر نکاح باطل قرار دیا جاتا ہے۔
यह सामान्य कानूनी जानकारी है, कानूनी सलाह नहीं। अपनी स्थिति के लिए सलाह हेतु, कुवैत में लाइसेंस प्राप्त वकील से परामर्श करें।